
ہما ارشد
صحافی | کالم نگار
تعلیمی اداروں میں ہراسگی کے کیسز کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اورتعلیمی اداروں کی انتظامیہ ہی ایسے معاملات میں غیر سنجیدگی اختیار کرتی ہے۔
اکثر تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ کمیٹیاں قائم ہیں تاہم وہ فعال نہیں ہیں۔ اگر فعال ہیں بھی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اگر طالبعلموں کی جانب سے کوئی ایشو اٹھایا جائے یا کسی چیز کی شکایت کی جائے تو اساتذہ اور اتھارٹیز کی جانب سے طلبا کے لیے بہت مسائل پیدا کیے جاتے ہیں اور انہیں بغیر سنے اور بنا تحقیقات کیے معاملے سے پیچھے ہٹ جانے کو کہہ دیا جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں طلبا اور بالخصوص طالبات کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے۔ انہیں ایک طرف طلبا کی طرف سے ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دوسری طرف یونیورسٹی یا کالج کی انتظامیہ اور اساتذہ کی جانب سے ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو طلبا اور ان کے والدین کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔
ان مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے تو قصوروار طالبعلموں کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے اور تعلیمی کیرئیر خطرے میں پڑ جاتا ہے کیونکہ آواز اٹھانے کی صورت میں اساتذہ کی جانب سے کم نمبرز یا فیل کر دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یوں طالبعلم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنا تعلیمی کیرئیر داﺅ پر نہیں لگانا چاہتے۔ جب آپ ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہوں جہاں تعلیم دلوانا بہت سے مسائل کا باعث بنتا ہو تو خاموشی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔
طالبعلموں کو زبانی اور جسمانی طور پر ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں عام رویہ ہے کہ اگر کوئی تعلیمی اداروں میں ہراسگی کی بات کرے تو معاشرہ اسے مزاح کی نظر سے دیکھتا ہے اور یہ رویہ طالبعلوں کو شدید ذہنی اذہیت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
نجی یونیورسٹی کی طالبہ زینب (فرضی نام) نے بتایاکہ ریسرچ ورک کے دوران ان کو اپنے میل سپروائزر کی جانب سے کئی مسائل پیش آئے اور ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں آئے روز سپروائزر کی جانب سے طرح طرح کھانوں کی فرمائشیں کی جاتی ہیں اور ان کے کپڑوں اور چال ڈھال پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ چھیڑ چھاڑ کرنا، جملے بازی کر کے ذہنی اذیت پہنچانا اور آنکھوں سے ایکسرے کر کے کہنا کہ آپ کو تو لڑکے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوں گے۔
اپنے پسندیدہ سٹوڈنٹس کو دوسرے طلبا پر ترجیح دینا، طالبعلموں کا ریسرچ پیپر اپنے نام سے شائع کروانا، جان بوجھ کر اپنے پسندیدہ سٹوڈنٹس کا نام دوسرے طالبعلموں کے ریسرچ پیپر میں لکھوانا، مفت میں سٹوڈنٹس سے اپنا کام کروانا جو ان کے متعلقہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی ان کو کچھ فائدہ دیتا ہے۔ اگر کوئی طالبعلم کسی بات سے انکار کر دے تواس کو نتائج کے لیے بھی تیار ہونا رہنا ہے۔
طالبہ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنا ریسرچ پیپر جمع کروایا تو سپروائزر کی جانب سے کہا گیا کہ یہ ان کے نام سے شائع کرایا جائے اور جب میں نے انکار کیا تو دھمکی دی گئی آپ اس کو خود شائع کروائیں اور جب اس سلسلے میں مجھ سے رابطہ کیا جائے گا تو میں اظہار لا تعلقی کر دوں گا اور اس بات سے انکار کر دوں گا کہ آپ نے میری سرپرستی میں کام کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ کو ڈیفنس اور وائیوا کلئیر کرنے میں بھی دشواری ہو گی کیونکہ میں اس وقت آپ کا ساتھ نہیں دوں گا اور اس طرح میری ساری محنت ضائع ہو گئی۔
جنسی ہراسمنٹ کا سامنا مرد کرے یا خاتون دونوں کے لیے ہی تکلیف دہ ہے اور ہراسمنٹ کے ثبوت مہیا کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔
ایک اور طالبعلم احتشام (فرضی نام) نے بتایا کہ ان کو بھی اسی طرح سپروائزر کی طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ طالبعلم کا کہنا ہے کہ انہوں نے دن رات ایک کر کے سپروائزر کی مدد سے تھیسیز تیار کیا لیکن آخری وقت پر مجھے کہا گیا کہ ڈیفنس میں آپ کا ساتھ دوںگا نہ ہی اب آپ کی کسی بھی طرح کی مدد کی جائے گی۔ سپروائزر کی جانب سے اس رویے کہ وجہ ان کو ایک طالبہ کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرتے دیکھ لیا تھا۔
ہراسمنٹ جیسے جرم کو روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ متاثرین کا خاموشی اختیار کرنا اس کا حل نہیں ہے بلکہ ایسے چہروں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ تاہم ہماری نئی نسل کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ جنسی ہراسگی کے حوالے سے قانون بھی موجود ہے جس کی آگاہی سے متعلق اقدامات ہونے چاہئیں تاکہ تعلیمی اداروں میں طلبا کو سازگار اور محفوظ ماحول میسر آ سکے اور کسی کا استحصال نہ ہو
