
کرن خان
آج خود سے بیٹھے بیٹھے یہ سوال کئی دفعہ کیا ، ہر بار یہی جواب ملا مسلسل جدوجہد کا نام ہے زندگی۔۔تبھی تو فیض احمد فیض نے برملا کہا ہے کہ
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے ،جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
ہر انسان اس دور میں کسی نہ کسی ٹینشن کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے چاہے چھوٹا ہو بڑا ہو بچہ ہو نوجوان ہو سب کو زندگی کے پرخار راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
آج کی کہانی میں آپ کو نوجوان نسل کو کون کیرئیر کے آغاز میں درپیش مشکلات کے سامنے بارے بتانے کی ہر ممکن سعی کرین گے۔یہ چیلنجز چاہے وہ پھر لڑکی ہو یا لڑکا ہو۔ اگر کوئی محنت کرکے آگے بڑھتی جاتا ہے تو اس کو ،اتنا زیادہ پریشرائز کیا جاتا ہے اس کو اتنا زیادہ تنگ کیا جاتا ہے کہ آخر کار وہ تنگ آ کر یا تو وہ اپنا شوق چھوڑ دیتا ہے یا پھر اپنے پسندیدہ مشعلے کو خیرباد کہہ کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے۔
اگر یہاں میں ذکر کروں لڑکیوں کی تو میں انہیں چند لڑکیوں کو جانتی ہوں جو بہت محنت کر کے کسی مقام تک پہنچتی ہیں، اور پھر ان کی محنت رنگ لے آتی ہے ان کو وہ مقام مل جاتا ہے جس کیلئے وہ برسوں محنت کی چکی میں خود کو پسوا رہی ہوتی ہے، تبھی تو کسی نے کہا ہے کہ محنت اتنی خاموشی سے کروں کہ آپکی کامیابی شور مچائے اور پس وہ کامیابیوں کے سیڑھیوں میں چڑھ جاتی ہے۔۔۔مگر یہاں تلخیوں کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا ہے جس وقت یہ کہا جائے کہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے۔
اگر اس میں چند خواتین آہی جاتی ہیں انہیں بھی اتنا زیادہ پریشرائز کیا جاتا ہے تنگ کیا جاتا کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتی ہیں یا وہ کچھ اور کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں ایسی مثال ہماری میڈیا کی ایک دوست کی بھی ہے جب انہوں نے میڈیا کے پرخار راستوں پر قدم رکھا تو ان کو نہیں پتا تھا کہ میڈیا کے اندر کیسے لوگ ہیں کچھ اچھے ہیں کچھ بہت ہی برے ہیں ہر انسان دوسرے انسان پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے وہ کچھ وقت کے مفاد کے لیے کسی کا کریئر بھی تباہ کر دیتا ہے ایسی ہی مثال ہمیں ملتی ہے ۔
ایک چینل کی ایک رپورٹر جنہوں نے کچھ ہی عرصہ قبل ایک چینل کو جوائن کیا ان کا ماننا تھا کہ شاید یہ چینل ان کے لیے کیریئر کا سب سے بہترین چینل ثابت ہو گا وہ بہت خوش تھی کہ اس کو پورا پورا موقع دیا جائے گا شروع کی کچھ دن گزرے اس کے بعد اس کو سکرین پر آنے کا موقع ملا اس نے اپنا کام بخوبی سرانجام دیا،ابھی تین مہینے لگاتار کام کرتی رہی کچھ چیزیں نئی تھی جو نہیں آتی تھی اس کو سیکھا کچھ چیزیں سکھائی گئی آہستہ آہستہ اس کو کام کرنا آ گیا بہت خوش تھی کہ وہ اپنے ان خوابوں کو جو اس نے دیکھے تھے کو پورا کرلیگی۔
وہ اس کے بہت قریب خود کو محسوس کر رہی تھی لیکن اچانک ایک دن ایسا آیا کہ اسے آف ائیر کر دیا گیا اس کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس کی غلطی کیا ہے تین دن کے بعد اس نے جو خود سے پوچھا یہ بتائیں مجھے کیوں آف ائیر کیا گیا ہے تو پوچھنے پر پتہ چلا ان سے رپورٹ نہیں کروانی اس نے بہت سوچا کی ایسی کونسی اتنی بڑی غلطی ہوگئی ہے مجھ سے، جسے سدھارنے کا موقع بھی نہیں دیا جارہا بہت سوچنے کے بعد جواب ملا یہ فیصلہ تو پہلے سے اوپر ہو چکا تھا یہ تو بس ایک بہانہ تھا لیکن کیا کسی کے ساتھ ایسا کرنا نا انصافی نہیں۔
ہم اپنے مفاد کے لیے یہ نہیں سوچتے کہ اس کا اثر اگلے کی زندگی پر کیا ہوگا ہو سکتا ہے اس کا پورا کیریئر ختم ہو جائے، ہوسکتا ہے وہ اتنا مایوسی ہوجائے کہ میڈیا کو ہی خیرباد کہہ دیں، ہوسکتا ہے وہ پھر کبھی گھر سے باہر ہی نہ نکلے، ان کے خواب چکنا چور ہوگئے، ریزہ ریزہ ہوگئے اور وہ بھی چند لوگوں کی مفادات کے خاطر،،،، میڈیا فیلڈ اتنا بھی برا نہیں بس کچھ لوگ ہی ہیں جو ذاتی مفادات کیلئے ایسا کردیتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ اس سے اگلے کی زندگی کتنی اثرانداز ہوسکتی ہے۔۔۔۔
خیر اس لڑکی نے ہمت نہیں ہاری، اس نے محنت جاری رکھنے کی ٹھان لی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایک نئے سرے اپنی سفر کا آغاز کرتے ہوئے ان لوگوں کو ضرور ایک دن یہ سبق دے گی کہ تم نے لاکھ گرانے کی ٹھان لی تھی مگر جب اللہ ،،،،کسی کو اٹھاتا ہے تو پھر کوئی گرا نہیں سکتا۔بند کمروں کی صحافت میرا منشور نہیں جو بات کہوں گا سر بازار کہوں گا تم رات کی تاریکی میں مجھے قتل کروگے میں صبح کی اخبار کی سرخی میں ملوں گا