The digital safety training workshops will be conducted in Islamabad, Karachi, and Lahore starting from 17 October 2024.
Climate Change Impact on Women: WJA Explains Media’s Role at University Seminar
WJA Convener leads university seminar on climate change impact on women and media’s role in climate coverage.
Unequal Newsrooms: WJA, Freedom Network Gender Audit of Media Shows Emergency Situation
WJA, Freedom Network gender audit of Pakistani media shows local news organisations struggling on gender equality indicators.
WJA Launches Campaign for Women Representation in Media and News
The WJA social media campaign demanded more women representation in media content and newsrooms.
اقلیتوں کو امتیازی سلوک اور ظلم کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے

صنم جونیجو
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں اقلیتیں محفوظ نہیں رہیں۔ اگرچہ دیکھا جائے تو دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں اقلیتوں پر ہمیشہ ظلم ہی ہوتا رہا ہے۔ پھر چاہے وہ انڈیا ہو، آسٹریلیا ہو، کینیڈا ہو یا پھر پاکستان ہو ،اقلیتیں ہمیشہ ظلم کا شکار رہی ہیں۔
پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں ہندو، احمدی، شیعہ، اور عیسائی شامل ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کے سینکڑوں لوگ جانیں گواہ چکے ہیں۔ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو جبری تبدیلی مذہب اور شادیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
پاکستان میں ہندو خواتین کی جبری تبدیلی، عصمت دری اور زبردستی کی شادیاں پاکستان میں متنازعہ بن گئی ہیں۔ اقلیتوں پر حملوں کی وجہ سے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے والی پالیسیوں کی مذمت کی گئی ہے۔ اقلیتوں کو اکثر امتیازی سلوک اور ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جب کہ اقلیتوں کے حوالے سے آرٹیکلز یہ کہتا ہے کہ تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں۔ آرٹیکل کہتا ہے کہ ہر شہری کو “اپنے مذہب کا دعویٰ کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
آرٹیکل 36 کے تحت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، اس کے مطابق ریاست اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گی، بشمول صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں میں ان کی مناسب نمائندگی دی جائے گی۔
اسلام کے مطابق ان کے تمام بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ پاکستان کا آئین پاکستان کے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اقلیتیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی عبادت گاہیں بنانے میں بھی آزاد ہیں۔
آرٹیکل 4 کے تحت ریاستیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جہاں ضرورت ہو اقدامات کریں گی کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے تمام انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو بغیر کسی امتیاز کے اور مکمل مساوات کے ساتھ مکمل اور مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔
کیا ان سب آرٹیکل کے باوجود ان پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ کیا قانون کے باوجود اقلیتیں پاکستان میں محفوظ ہیں یہ سب وہ سوالات ہیں جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
اس حوالے سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ملیر کی سینئر وکیل عابدہ پروین سے بات کی انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس زیادہ تر کیسز زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور اغوا کے آتے ہیں جو کہ بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں لیکن ابھی تک ان کیسز کے نتیجے سامنے نہیں آئے۔ اقلیتیں پاکستان میں بلکل محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ایسے کیسز بھی دیکھے ہیں جن میں ان کے سامنے اقلیتوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور وہ ڈر کی وجہ سے کیسز وڈرو کروا لیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر لوگ ڈر کی وجہ سے کیسز کرواتے ہی نہیں ہیں اور اگر کوئی کروا لے تو بدقسمتی سے کیس آگے چل ہی نہیں پاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ لوگ ڈر کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
اس حوالے سے تھر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے ہم نے بات کی جس نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ہمیں بتایا کہ اس کو زبردستی اغوا کرنے کے بعد دس دن اس کو قید میں رکھا گیا اس پر بہت زیادہ ظلم کیا گیا .اس کے بعد زبردستی میرا مذہب تبدیل کروایا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کو بہت زیادہ دھمکیاں دی گئیں کہ اگر میں نے بات نہ مانی تو اس گھر والوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ جب ہم نے اس حوالے سے اس بات کی تو اس وقت بھی وہ اپنے گھر والوں کو یاد کر کے بہت زیادہ افسرده ہو گئی۔ اس واقعے کو تقریبن دس سال ہو گئے ہیں۔
چند لمحات سبیلا بی بی کے ساتھ

فائزہ حفیظ
کالم نگار
کبھی کبھی انسان کو اپنے لیے اپنے گھر کے لئے ایسے ایسے کام بھی کرنا پڑتے ہیں کہ جو کبھی انسان نے سوچا بھی نہیں ہوتا. ایسی ہی کہانی ہے سبیلا بی بی کی ہے.
سبیلا بی بی کی کہانی ان کی اپنی زبانی….
میرے خاندان میں پانچ افراد ہیں جن کی زمہ داری میرے کاندھوں پہ ہے. میں پانچ سال سے پنڈی کے علاقے چکلالہ میں برگر کا سٹال چلا رہی ہوں. اور الحمد للہ بہت اچھا گز بسر ہو جاتا ہے.سٹال پر میں میری ایک بیٹی اور بیٹا مل کر کام کرتے ہیں. ہم یہاں شام 4 بجے سے رات 10 بجے تک کام کرتے ہیں.یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے کہ روز مرہ کی مصروفیات کو اور گھر کے کام کاج کو ایک ساتھ لے کر چلنا…الحمد للہ! میں جس جگہ کھڑی ہوں. یہ ایک بہت ہی اچھا علاقہ ہے. لوگ میری بہت عزت کرتے ہیں.سب سے اچھی اور مزے کی بات جو انہوں نے بتائی کہ جب سبیلا بی بی نے یہ کاروبار شروع کیا تو آرمی کے کچھ بچوں نے انہیں سلوٹ کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی.
میں بہت فخر محسوس کرتی ہوں کہ میں نے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ اپنی محنت سے اور ہنر سے کام کر کے اپنا پیٹ پال رہی ہوں اور مجھے یہ ہمت اور حوصلہ میری ضروریات دیتیں ہیں. میں کچھ پیسے اپنے کام میں خرچ کرتی ہوں اورباقی اپنے بچوں کے لیے. اللہ کا شکر ہے کہ اس آمدنی میں میرا گھر بہت اچھے طریقے سے چل رہا ہے.
میں نے کبھی خواہشات پورا کرنے کا نہیں سوچا کیوں کہ خواہشات تو انسان کی لاکھوں روپے سے بھی پوری نہیں ہوتیں. لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف مرد کی زمہ داری ہے گھر کو چلانا یا یوں کہہ لیجیے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو اس قابل نہیں سمجھتا جاتا کہ وہ بھی کچھ کرسکتی اپنے گھر کو چلا سکتی ہے اور شاید عورت مرد سے زیادہ اچھے طریقے سے مینیج کر سکتی ہے.
مجھے ہی دیکھ لیں میرا شوہر کینسر جیسے لاعلاج مرض میں مبتلا ہے. اپنے شوہر کا علاج اور بچوں کی پڑھائی کی زمہ داری اب میرے کاندھوں پر ہے اور میں اسے بہت بہترین طریقے سے نبھا رہی ہوں. میری خواہشات اور ضروریات اب صرف میرے شوہر کا علاج اور بچوں کی تعلیم ہے. کام کوئی بھی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا. جب ہم ہمت اور حوصلہ اور لگن کا دامن پکڑ کر کوئی کام کرتے ہیں تو کامیابی کو ہمارے قدم چومنے سے کوئی نہیں روک سکتا.
پیغام
.محنت کو اپنا ہنر بنائیں اور عزت والی زندگی کا انتخاب کریں
مرد بھی تشدد کا شکار ہوتے ہیں ؟؟؟

صباحت خان
صحافی | آئی بی سی اردو
پاکستان سمیت دنیا بھر میں مردوں پر تشدد ہونے کی حقیقت کو ماننے کا وقت ہو چکاہے۔ کئی صدیوں سے مرد ذات تشدد کی زد میں ہیں مگر خواتین کے تشدد مارچ ،عورت مارچ کے دباؤ کا شکار ہوکر مرد اپنے خلاف ہونے والے تشدد کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہے۔ سب سے پہلے یہ مانا بہت ضروری ہے کہ مرد بھی تشدد کا شکار ہوتے ہیں اس پرکوئی کیوں بات نہیں کرتا۔ سوچوں کے دروازے کھول دیجیئے خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے کے بجائے بہادر حضرات تشدد پر بات کر رہے ہیں ۔
تو چلیں آج ہم آدھی گواہی والی عورت پر تشدد کے حوالے سے نہیں بلکہ پوری گواہی والے مردوں کے دکھ بیان کرتے ہیں۔مرد تشدد کا شکار ہوتے ہیں مگر کس سے اور کیسے؟جی پریشان نہ ہو،مرد بھی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ ابھی بیان کئے دیتے ہیں۔
مرد پر تشدد بچین سے ہی شروع ہو جاتا جب بیٹے کی پیدائش پر مٹھائی تقسیم کر کے خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔ بہن کی پلیٹ سے بوٹی بھائی کی پلیٹ میں ڈالی جاتی ہے۔جوانی میں تعلیم میں ناکامی اور بہن کی کامیابی پر باتیں سننے کو ملتی ہیں تشدد کی اقسام شروع ہو جاتی ہیں ۔
پھر آغاز ہوتا ہے شادی سے پہلے لڑکی ہاتھ نہ آئے یا انکار ہو جائے تو مرد تشدد کا شکارہونا شروع ہو جاتا ہے۔شادی ہو جائے وہ بھی محبت کی اور گرل فرینڈ کو معلوم ہو جائے تو تشدد کا شکار،پھر شادی کے بعد بیوی کے اخراجات یا بیوی کی تنخواہ ہاتھ نہ آئے تو تشدد۔ مرد اللہ کی جانب سے زمین پر سب سے بے بس مخلوق ہے جیسے تشدد برداشت کرنے کی ذمہداری سونپی گئی ہے۔
بچے ہو جائیں تو دودھ ،پیپرز کے اخراجات بیوی مانگ لے تو تشدد ،بیوی اپنے علاج کے لیے یا کچن میں راشن کے لیے خرچے کا بولے تو تشدد کا شکار،دوسری یا تیسری یا پھر چوتھی شادی مناظر عام پر آ جائے تو بے چارہ مرد تشدد کا شکار ہو جاتا ہے۔رک جائیں زرا صبر کریں ۔۔.ابھی تو مرد پر ہونے والی خاص تشدد کی اقسام پر بات کرنا باقی ہے۔
غیر ازدواجی تعلقات بیوی کے علم میں آ جائیں اور بیوی رو رو کر اپنی وفا اور محبت کا شور کریں تو تشدد، اس کے علاؤہ گرل فرینڈ کے علم میں دیگر افیئرز آجائیں تو پھر خود سوچیں تشدد کی اقسام ختم ہوجائیں گی مگر ان پر تشدد نہیں ۔۔۔۔۔۔مسکرائیں نہیں یہ ایک سنجیدہ اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔
اب بیان کرتے ہیں اگر بیوی ، ماں ، بہن کی جانب سے نمازپڑھنا، بسمہ اللہ کرنا، سونے جاگنے ،دن اور را ت کی تمیز کرنا، صفائی نصف ایمان ہے، پر عمل کرنے کا بولا جائے تو تشدد ۔چھوٹے چھوٹے بچوں اور بیوی کو وقت دینے اور ضروریات پورا کرنے کا بولا جائے تو تشدد ۔۔۔۔۔
بیوی اگر مرد کے گھر والوں کی جانب سے ذہنی،جسمانی اور معاشی بدسلوکی پر آواز اٹھائے تو مرد ہاتھوں اور پاؤں کے ساتھ زبان کا استعمال کر کے بھی تشدد سے نہیں بچ سکتا۔۔۔۔۔
ایک نمبر مخلوق مرد سکول کی شکل بھی نہیں دیکھ سکا اور بیوی کو معلوم ہو جائے خاوند تعلیم یافتہ نہیں تو تشدد ۔
اب آجاتا ہے ملازمت کی جگہ پر کسی خاتون کی تنخواہ زیادہ ہو جائے یا اچھے عہدے پر فائز ہو تو مرد پر تشدد کی انتہا ہو جاتی ہے۔ خواتین کا کسی مسئلہ پر اتفاق ہو جائے تو مرد تشدد کا ذکر کرنا بھی گوارہ نہیں کرتا ۔۔۔۔۔
معاشرے کا یہ وہ تلخ پہلو ہے جس پر مرد تشدد کا شکار ہو کر بھی انصاف کے حصول سے محروم ہے ،دیکھئے میں تھک گئی ہوں مرد کے خلاف اس ظالم معاشرے کی حقیقت بیان کرتے کرتے… قلم بھی رو رہا ہے، اس لیے مردوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے مردوں کی آواز کا ساتھ دیا تاکہ مردوں کو انصاف کی طاقت کا علم ہو سکے۔
مرد کے خلاف تشدد کرنے والی عورتوں سے انصاف کی اپیل ہے۔ مرد بے زبان اور مظلوم ہوتے ہیں ان کے مسائل کا حل آپ کی چپ میں ہے، برائے مہربانی اس بے زبان مخلوق کو سوچ سمجھ کو لگام دیں۔
اقلیتی برادری کی کوڑا اٹھانے والی خواتین کو درپیش مسائل اور کرسمس

اقراء خالد
یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ اکثر انسانی حقوق کا سب سے اہم پہلو مذہب ہوتا ہے. اس لیے مذہب کی بنیاد پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں. ان میں زیادہ تر ان خواتین کا شمار ہوتا ہے جو گزر بسر کرنے کے لیے محنت مشقت کرتی ہیں.
ہمارے گھروں میں کوڑا اٹھانے والی خواتین جن کو ہمارا معاشرہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہے، وہ کن مسائل سے گزر رہی ہے شاہد ان کو جاننے کے لیے ہمارے معاشرے نے زیادہ کوشش نہیں کی ۔ آج کے اس دور میں جہاں روز مرہ کے اخراجات اٹھانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے، وہاں یہ خواتین مشکل سے اپنے گھروں کو چلا رہی ہیں ۔
ارم بی بی جو ایک مسیحی برادری سے تعلق رکھتی ہیں، لوگوں کے گھروں کا گندہ اٹھانا آسان کام نہیں لیکن زندگی گزارنے کے لیے یہ کرنا پڑ رہا ہے۔ جس میں نہ لوگوں کی طرف سے اچھا رویہ ہے اور نہ سی ڈے اے کی طرف سے لوازمات پورے کیے جا رہے ہیں. مہنگائی میں جو مشکل ہے سو ہے لیکن ہماری خود کی محنت نہیں مل رہی ہے۔ تین ماہ کام سے ہٹانے کے باوجود دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ۔ زندگی ایسے ہے جیسے کانٹوں پر چلنا اور اس لیے زندگی مشکل سے مشکل ہو رہی ہے. بچوں کو اچھی زندگی نہیں دے پا رہے نہ ہمیں بولنے کا حق ہے اور نہ مانگنے کا حق رکھتے ہیں، اگر بولتے ہیں تو جاب سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے اور اس لیے نوکری کے لیے چپ رہنا پڑتا ہے ۔
کلثوم بی بی بھی جو کے اسی کام سے وابستہ ہیں، وہ بھی محنت تو کر رہی ہے لیکن ان کو وہ سہولتیں میسر نہیں جو کسی بھی سرکاری ملازمت رکھنے والے کو ملتی ہے تنخواہیں تو ایک طرف کوڑا اٹھانے والی چیزیں بھی مسیر نہیں ہیں. تنخواہیں اور گھر کے حالات کی وجہ سے ہم اپنے کوڑا اٹھانے والاسامان بھی مانگ کر پورا کرتے ہیں. اس پر پھر لوگوں کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے ہم کوئی انسان نہیں بلکہ ناکارہ چیز ہو ں. یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ کرسمس جہاں خوشیاں اور خوداوند کی رحمت لے کر آتی ہے، وہاں ہم جیسے غریب لوگوں کو کہا ں نصیب ہوتی ہے. ان سب حالات میں ہم کیسے یہ کرسمس منا سکتے ہیں ، جہاں ہمیں دو ماہ سے سیلری نہیں ملی.ہماری تنخواہوں سے ہمارے گھر چلتے ہیں، وہ ہمیں مل نہیں رہی، ہماری زندگیاں انتہائی مشکل میں ہیں، بس خداوند سے دعا ہے ہماری وہ ہی مدد کرے ۔
کہتے ہیں کچھ لوگ سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوتے ان کو زندگی گزارنے کے لیے محنت اور مشقت کرنی پڑتی ہے تو ہمارے معاشرے کا یہ فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی معاشرے کا حصہ سمجھا جائے اور ایسے لوگوں کی خوشیوں میں ان کا ساتھ دیا جائے تاکہ وہ بھی خود کو معاشرے کا فرد سمجھیں۔
گھروں میں کام کر نے والی خواتین غیر مساوی رویوں کا شکار

ایمن سید
کالم نگار
کسی بھی معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی اور قوموں کے رویئے اہم کردار ادا کرتے ہیں. بد قسمتی سے ترقی کی دوڑ میں ہمارا معاشرہ جو کہ کلاس سسٹم کی تفریق میں بٹ چکا ہے، وہیں اس سسٹم کی پیداوار رویئے انسان کو ذہنی انتشار کی طرف بھی مائل کردیتے ہیں.
جس کی ایک مثال 45 سالہ ماریانا بھی ہے. اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی ماریانا شہر اقتدار کے پوش سیکٹر میں ایک گھر میں گزشتہ 4 سال سے ملازمہ ہے. شوہر کی وفات کے بعد سے ماریانا نہ صرف اپنی دو بیٹیوں کی کفالت ماں باپ بن کر رہی ہے بلکہ ان کے ہر خواب کی تعبیر بھی دیکھنا چاہتی ہے. زندگی کی مشکلات سے لڑتی ماریانا کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی کے دوران شائد ہی دس منٹ کا آرام نصیب ہوتا ہو .دن بھر کام کی تھکاوٹ تو حوصلہ کم نہیں پڑنے دیتی مگر مالکان کے بے حس رویئے اس بات کا احساس ضرور دلاتے ہیں کہ ہم ان جیسے نہیں بلکہ کمتر ہیں. ساری فیملی کے کھانا کھا لینے کے بعد ماریانا کو بھی کھانا تو مل جاتا ہے مگر اس بات کی سخت نگرانی کی جاتی ہے کہ ماریانا کے کھانے کے برتن الگ ہوں اور ان برتنوں کی جگہ بھی کچن میں الگ سے مختص کی گئی ہے۔
ماریانا کا کہنا ہے کہ تنخواہ کا دیر سے ملنا یا باجی کی ڈانٹ پڑنا سب برداشت ہو جاتا ہے مگر کمتر سمجھے جانے کا تصور ذہن کو جنجھوڑ کے رکھ دیتا ہے لیکن اپنے گھر کی دہلیز پہ پہنچتے ہی میں اپنے آنسو پونچھ لیتی ہوں کیوں کی مجھے اپنی دونوں بیٹیوں کو مضبوط بن کر زمانے سے لڑنا سکھانا ہے اور میرا مسکراتا چہرہ ہی ان دونوں کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔
محنت مزدوری کرنے والی اقلیتی برادری کی خواتین کے مسائل کے حوالے سے جب ہم نے معروف سماجی کارکن فرزانہ باری سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اقلیتی ملازمین خاص کر خواتین سے غیر مساوی سلوک اور بے حس رویے نہ صرف ذہنی انتشار بلکہ معاشرے میں بگاڑ کا باعث بھی بنتے ہیں اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے مسائل کے لیے کوئی قانون سازی نہیں ہے، نہ ہی ایسے کوئی ادارے بنائے گئے ہیں جس کے باعث ان محنت کش اور مجبور خواتین کو سخت رویوں تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کمتری کے احساسات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بلاشبہ نہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے.
فرزانہ باری نے مزید کہا کہ انسانی حقوق اور خواتین کے لیے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی اس مسئلے پہ بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہےـ .سماجی کارکنان کی آوازوں اور کاوشوں کے علاؤہ بطور شہری ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف اپنے گھر کی سطح پہ بلکہ اپنے اطراف میں بھی ان پہلوؤں پہ توجہ دے تاکہ معاشرے میں ایک مثبت اور ذمہ دار شہری کے وجود کا اضافہ ہو۔
جینڈر پالیسی کا نفاذ میڈیا ہاوسسز کے لیے ناگزیر

فوزیہ کلثوم رانا
کالم نگار
جینڈر پالیسی تومیڈیا ہاوسسز یا دیگر اداروں میں نافذالعمل نہیں ہے مگر پاکستان میں اب خواتین کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ پیشہ وارانہ امور میں ساتھ دینا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں خواتین جس طرح ہر شعبے میں نام کما رہی ہیں اسی طرح شعبہ صحافت میں بھی اب خاصی خواتین نام بنا رہی ہیں ۔ چاہے کیمرہ مین ہوں، فو ٹو جرنلسٹس ہوں، وڈیو ایڈیٹرز ہوں، سب ایڈیٹر ہوں، اخبار یا ٹی وی کی رپورٹرز ہوں یا پھر اینکرز ہوں ، وی لاگرز، یو ٹیوبرز ،ویب سائیٹ ایڈیٹر یا پرڈیوسرز ، اب خواتین ان تمام شعبوں میں نام کما رہی ہیں ۔
پاکستان میں ایک محتاط اندازے کےمطابق مختلف اداروں میں 31 ہزار 281 خواتین افسران ہیں، ایک ہزار 246 مرکزی سیکریٹریٹ میں ملازمت پیشہ ہیں ،جبکہ 30 ہزار 35 خواتین منسلک محکموں اور ذیلی دفتروں میں موجود ہیں۔ پنجاب میں 73.68 فیصد، سندھ میں 12.76 فیصد، خیبر پختونخوا میں 7.9 فیصد اور بلوچستان میں 1.93 فیصد خواتین برسرملازمت ہیں۔ اسی طرح وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں 1.36 فیصد اور گلگت بلتستان میں 0.56 فیصد خواتین کے لیے مخص ہے۔عوامی دفاتر میں جنسی امتیاز سے متعلق عمومی طور پر خواتین کو ملازمت پر نہ رکھنے سے متعلق ایک سوچ غالب ہے کہ خواتین ملازمت جاری نہیں رکھ سکیں گی۔ ملک میں متعدد خواتین افسران (گریڈ 16 اور 17) بطور استاد، ماہر نفسیات اور نرس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اسی طرح شعبہ صحافت میں بھی ہر صوبے میں خواتین کا 10 اور اقلتیوں کا 5 فیصد کوٹہ مختص ہے جبکہ سی ایس ایس کی 100 نشستوں پر 2016 سے اب تک کسی خاتون اور اقلیت کو ملازمت نہیں مل سکی۔
شعبہ صحافت میں یہ تاثر عام ہے کہ خواتین مشکل موضوعات اور بیٹس کی کوریج نہیں کرسکتیں ہیں۔ اس وجہ سے صحافت میں خواتین کو قدرے آسان سمجھی جانے والی بیٹس تک محدود کیا جاتاہے۔ نیوز روم میں عموما رپورٹر خواتین کو موسم، صحت اور تعلیم کے شعبوں، شوبز یا سٹی رپورٹنگ کی کوریج یا پھر زیادہ سے زیادہ مظاہرے کور کرنے کی بیٹ دے دی جاتی ہے۔ یہ ایک خود ساختہ پیکج ہے یعنی جو لڑکی موسمیات کور کرے گی وہی صحت، انسانی حقوق، غیر سرکاری تنظیموں اور تعلیم کے معاملات کی کوریج بھی کرتی ہے بطور خاص بر صغیر میں میڈیا اور کئی ترقی پزیر ممالک میں مرد سیاست، عدالت اور کرکٹ پرائم ٹائم پر قابض رہتے ہیں۔ ایسے میں صحت، تعلیم اور موسم کی خبریں غیر اہم تصور کی جاتی ہیں اور ان خبروں کو فائل کرنے والی خاتون صحافی خبروں سے بھی زیادہ غیر اہم ہیں، حالانکہ اب یہ صورت حال اب بدل رہی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خاتون رپورٹرز کی خبروں سے زیادہ ان کے کپڑوں، میک اپ، انداز و اطوار پر کمنٹس کیے جاتے ہیں اور نوجوان لڑکیوں کو چاہے وہ اچھی رپورٹنگ نہ بھی کر سکیں بآسانی سکرین مل جاتی ہے اور بہت ساری قابل صحافی خواتین کو بڑھتی عمر یا شادی ہونے کی وجہ سے میڈیا کے ادارے نوکری پہ نہیں رکھتے یا بہانے بازی سے نکال دیتے ہیں۔ بعض اوقات کامیاب خواتین صحافیوں کی خبروں اور تحریروں کو بھی دقیانوسی سوچ کے تحت ان کے مرد دوستوں کی مرہون منت قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر کسی خاتون صحافی کا شوہر یا بھائی صحافی ہے تو خاتون کی کامیابی کا سہرا گھر کے مرد کو دیا جاتا ہے۔ ایسی صحافی خاتون کی قابلیت کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔
سئینر صحافی شہناز تاری نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست، میڈیا ہاوسز، سول سوسائٹی اور پریس کلبوں کو اس حوالے سے تربیت دی جائے کہ کس طرح خواتین کی شمولیت کو بڑھایا جاسکتا ہے اور جینںڈر پالیسی کو اگرمتعارف کروادیا جائے تو اس سے نہ صرف کام کا ماحول سازگار ہوجائے گا بلکہ آئےروز جنسی ہراسگی، کم تنخواہوں اور صحافی خواتین کی امتیازی سلوک کی شکایات کا بھی ازالہ ہوسکے گا۔ انہوں نے مزید کہا ابھی بھی خواتین ذہنی تشدد یا آن لائن ہراسگی کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں کس طرح تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے اس پہ بات ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاوسز میں صحافی خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر زیادہ سے زیادہ خواتین کو مواقع دینے چاہئیں، تاکہ وہ اپنے ماتحت کام کرنے والی خواتین کے مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ صحافی خواتین کے کلیدی کردار کو بڑھانے کے لئے پریس کلبز اور یو نینز کو بھی ریفارمز لانے چاہیئے وہی چہرے بار بار عہدے بدل بدل کر سامنے لائے جاتے ہیں مگر اس سے صحافی خواتین کی حقیقی ترجمانی نہیں ہو پاتی ایسا محسوس ہوتا ہے چند لوگوں کو ہی بار بار نوازاجا رہا ہے ۔
نیلم ارشد جو کورٹ رپورٹنگ کی ماہر ہیں انہوں نے بتایا کہ ان جیسی اور بھی بہت ساری قابل خواتین صحافی ہیں جو نیوز روم میں مرد ساتھیوں اور سینیئرز کی مرضی سے کام کرتی ہیں۔ نیلم کئی برسوں سے کورٹ کی رپورٹننگ کر رہی ہیں اور اپنا لوہا منوا چکی ہیں انہوں نے ہائی پروفائیل کیسسز کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے رپورٹنگ کی ہے مگر ان کے مطابق صحافی خواتین پوری لگن محنت اور بہترین کاکردگی کے باوجود بہت سارے اداروں میں کئی برسوں سے آج بھی ’اسٹیپنی رپورٹر‘ کے طور پر فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کو تجربے اور قابلیت کی بناء پہ ترقی ملنی چاہئے۔ بڑی خبریں نکال لانے والی خاتون صحافیوں پر عجیب مضحکہ خیز الزامات لگنے عام ہیں۔ یہاں تک کہ کورٹ رپورٹنگ کرنے والی خواتین کو دور جدید میں بھی حیرت سے پرکھا جاتا ہے یہ جملہ عام سننے کو ملتا ہے ہائے آپ کورٹ بھی کور کرتی ہیں۔ خبر خود بناتی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہا کہ جینڈر پالسی کود اگر یقینی بنا دیا جائے تو صحافی خواتین کے مسائل نوے فیصد حل ہوجائیں گے پھر ان کے ساتھ غیر پیشہ وارانہ سلوک کی روکنے تھام میں نہ صرف مدد ملے گی بلکہ ورکنگ کنڈیشنز میں بہت حد تک بہتری ممکن ہوجائے گی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹر صباءبجیر نے بتا یا کہ آجکل تو سوشل میڈیا کا دور ہے ایک بھی تصویر وائرل ہوگئی تو کس کس کو جواب دیتی پھریں گی اور دوسری جانب خواتین صحافیوں کو عجب مشکل یہ درپیش ہے کہ اگر وہ اپنے سورس کے ساتھ خبر کے سلسلے میں مل لیں تب بھی طرح طرح کے خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون رپورٹرز کی خبروں سے زیادہ ان کے کپڑوں، میک اپ، انداز و اطوار پر کمنٹس کیے جاتے ہیں۔ جو کہ نہ صرف صنفی امتیاز ہے بلکہ ہمارے کام کو کسی اور کے پلڑے میں تول دینا بھی ہے۔ اور ہمارے معیاری کام کو بھی اس طرح سے نہیں سراہا جاتا ہے۔ اور اگرادارے جینڈر پالیسی ترتیب دیں اور یکساں معیار پہ کام کے پیمانے ہوں تو ورکنگ صحافی خواتین کے لیے حالات سازگار بنانے میں مدد مل سکتی ہے.
ؑعکس این جی او کی سربراہ تسنیم احمر جو صحافی خواتین کے مسائل پہ کام کرنے والے ادارے کی سربراہی کرتی ہیں انہوں نے صحافی خواتین کے ساتھ میڈیا ہاﺅسسز اور دیگر پلیٹ فارمز پہ صنفی امتیاز کی وجہ ہمارے اس پدر شاہی نظام اور فرسودہ سوچ کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو پاورفل بیٹس پہ کام نہ کرنے دینا اسی سوچ کی عکاسی ہے کہ یہ نازک ہیں اور کمزور ہیں حالانکہ اب حالات بدل رہے ہیں اور صحافی جنگ کی رپورٹنگ ہو یا قدرتی آفات ہر میدان میں کوریج کرتی نظر آرہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاص مردانہ سوچ ہے جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر صحافی خواتین سامنے آگئیں تو اپنی قابلیت کی بناپر یہ اپنا نمایاں مقام حاصل کر لیں گی۔ تسنیم احمر نے کہا کہ صحافی خواتین کو ہمت باندھے رکھنی ہے۔ جم کہ ڈٹی رہیں اور ایسا گروپ تشکیل دیں جو لوگ صنفی امتیاز کے حامی نہ ہوں وہ صحافی خواتین کے لئے یہ ایک بڑی سپورٹ ہو سکتے والا ہیں۔
میڈیانا ہاؤسسز میں پایا جانے والا صنفی امتیاز نہ صرف صحافی خواتین کے با اختیار کردار کی نفی کرتا ہے بلکہ اس سے صدیوں پرانی وہی سوچ بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ صحافی خواتین کی بھی یکساں مواقع حاصل کرنے کی جنگ اتنی ہی کٹھن ہے جتنی کسی وکیل, جج, نرس یا ڈاکٹر کی ہے۔ خوش آئیند بات یہ ہے کہ میڈیا ہاوسسز میں جینڈر پالیسی لاگو کروانے کی تگ وہ دو شروع ہوچکی ہے اور یہ صرف یکساں شعبوں میں رپورٹنگ تک نہیں بلکہ یکساں ماہانہ تنخواہ اور دیگر پیشہ وارانہ مراعات تک جا رہے گی۔









